خلیج کا بحران — Page 113
۱۱۳ ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء رد عمل دکھاؤں گا ؟ خدا کی نظر میں رہنے والا انسان ہمیشہ معتدل ہوتا ہے۔اس کا رد عمل کبھی بھی حد سے تجاوز نہیں کرتا اگر ایک ایسے انسان کی موجودگی میں جس کا آپ پر رعب ہو، جس کی ہیبت آپ کے دل پر طاری ہو کوئی شخص آپ کی بے عزتی کرے تو آپ ہرگز اس طرح اس کو گندی گالیاں نہیں دیں گے جس طرح علیحدگی میں بے عزتی کرنے پر دیں گے۔اس وقت آپ کو کوئی نقصان پہنچائے تو بڑا دبا دبا اور گھٹا گھٹا ردعمل دکھائیں گے ورنہ اس کی بھی بے عزتی ہوتی ہے جس کی موجودگی میں آپ حد سے تجاوز کرتے ہیں۔ماں باپ کی موجودگی میں بچوں کا رد عمل اور ہوتا ہے۔ماں باپ سے علیحدگی میں اور رد عمل ہوتا ہے۔ایک صاحب جبروت بادشاہ کے حضور درباریوں کے ساتھ اگر کوئی حرکت ہو تو انکا رد عمل بالکل اور ہو گا اور گلیوں میں ، بازاروں میں چلتے ہوئے انہیں درباریوں سے اگر کوئی بدسلوکی کرے تو ان کا رد عمل بالکل اور ہوگا۔تقویٰ کے حق سے کیا مراد ہے؟ پس تقویٰ کا معنی یہ ہے اور تقویٰ کا حق ادا کرنے کا معنی یہ ہے کہ زندگی کی ہر وہ حالت جس میں آپ کے اوپر کسی قسم کے عوامل کارفرما ہوں آپ کی عام حالت میں تبدیلی پیدا کرنے والے کوئی بیرونی محرکات ہوں اس وقت اپنے رد عمل کو اس طرح دیکھو کہ جیسے تمہارے علاوہ خدا بھی اس کو دیکھ رہا ہو اور اگر ان معنوں میں خدا کے سامنے رہو تو یہ تقویٰ کی حالت ہے جس کا دوسرا نام اسلام ہے یعنی علمی دنیا میں ہر وقت خدا کے حضور سر بسجو در ہنا اور اس کی اطاعت کے اندر رہنا اس کی فرمانبرداری اور سپردگی میں رہنا۔پس یہ چھوٹی سی آیت دو سوال اٹھاتی ہے اور یہ آیت انہی دونوں سوالات کا جواب خود دیتی ہے لیکن اس کی مزید تفصیل اس کے بعد آنے والی آیت پیش فرماتی ہے اور اسلام کی ایک اور تصویر ایسی کھینچتی ہے جس کی طرف از خود محض اس آیت سے توجہ مبذول نہیں ہوتی وہ مضمون جب تک کھولا نہ جائے انسان پر از خود کھل نہیں سکتا۔چنانچہ فرمایا: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا اگر تم تقویٰ کا حق ادا کرنے والے ہوا گر تم اس کے نتیجے میں یہ تسلی پا جاتے ہو کہ تم اس حالت میں جان دو گے جو سپردگی کی حالت