خلیج کا بحران — Page 105
۱۰۵ ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء بتائیں کہ تمہارا آخری تجزیہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ تمہارے ہر قسم کے خطرات کی بنیاد خود غرضی اور نا انصافی پر ہے۔دنیا کی قوموں کے درمیان جو چاہیں نئے معاہدات کر لیں جس قسم کے نئے نقشے بنانا چاہتے ہیں بنائیں اور ان کو ابھاریں لیکن جب تک اسلامی عدل کی طرف واپس نہیں آئیں گے واپس کیا ؟ وہ چلے ہی نہیں تھے وہاں سے ) اس لئے یوں کہنا چاہئے ، جب تک اسلامی عدل کی طرف نہیں آئیں گے۔جب تک حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے اخلاق میں پناہ نہیں لیں گے جو تمام جہانوں کے لیے ایک رحمت بنا کر بھیجے گئے۔اس لئے صرف اور صرف آپ کی تعلیم ہے جو بنی نوع انسان کو امن عطا کر سکتی ہے۔باقی ساری باتیں ڈھکوسلے ہیں، جھوٹ ہیں،سیاست کے فسادات ہیں۔ڈپلومیسی کے دجل ہیں۔اس کے سوا ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔پس امن عالم کے قیام کی خاطر آج صرف جماعت احمد یہ ہے جس نے صحیح خطوط پر ایک عالمی جہاد کی بنا ڈالنی ہے۔اس لئے میں آپ سب کو اس امر کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ دنیا سے تعصبات کے خلاف جہاد شروع کریں اور دنیا سے ظلم وستم کو مٹانے کے لئے جہاد شروع کریں۔سیاست کو عدل سے روشناس کرانے کے لئے جہاد شروع کریں۔اگر یہ سب کچھ ہو تو یونائیٹڈ نیشنز یعنی اقوام متحدہ کی سوچ میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا ہو جائے گی ، پھر اقوام متحدہ کی بہت سی کمیٹیاں ایسی بنائیں جائیں گی جو جس قسم کے خطرے میں نے آپ کے سامنے رکھے ہیں ، ان کے اوپر غور کرنے کے لئے اور ان خطرات کے ازالے کی خاطر وہ کام شروع کریں گی اور اس کے لئے ان کو دنیا میں ایسے منصف مزاج سابق میں عدلیہ سے تعلق رکھنے والے کارکن مل سکتے ہیں جن کے انصاف کے اوپر دنیا کو کوئی شک نہیں ہے۔مثلاً ”ڈوشین ہیں کینیڈا کے ایک جسٹس (Justice۔J۔Dechene) ان کی انصاف کی نقطہ نگاہ سے بڑی شہرت ہے۔ہمارے پاکستان میں ہمارے پارسی ایک جسٹس تھے جسٹس دراب پٹیل صاحب، جنہوں نے اس وجہ سے استعفی دے دیا تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ فوجی انقلاب کے نتیجے میں جو کاروائیاں کی جا رہی ہیں ان کے لئے کوئی منصفانہ بنیاد نہیں ہے۔چنانچہ ان کا انصاف کے نقطہ نگاہ سے ایک تقویٰ کا مقام ہے۔