خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 99 of 376

خلیج کا بحران — Page 99

۹۹ ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء نہیں۔ہم ایسے عددی غلبے کے منہ پر تھوکتے بھی نہیں جس کے نتیجے میں تو میں قوموں سے نفرت کرنے لگیں اور امن جو ہے وہ جنگ کی آگ میں تبدل ہو جائے۔اس لئے جماعت احمدیہ کا نظریہ بالکل مختلف نظریہ ہے ہمیں آج اگر غلبہ نصیب نہیں ہوگا تو دوسوسال کے بعد نصیب ہو جائے گا۔چارسوسال، ہزار سال کے بعد ہو جائے گا۔لیکن وہ غلبہ نصیب ہو گا جو محمد رسول ﷺ کا غلبہ ہے۔آپ کے خلق کا غلبہ ہے۔آپ کی تعلیم کا غلبہ ہے جو قرآن کا غلبہ ہے۔اسی غلبے کی ہمارے ذہنوں میں اور ہمارے دلوں میں قدر و قیمت ہے۔باقی غلبے تو ظلم اور سفا کی کے غلبے ہیں شیطانیت کے غلبے ہیں، ہمیں ان میں کوئی دلچسپی نہیں بلکہ ہم ان کو مٹانے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ان سے ٹکرانے کے لئے ، ان سے تصادم کرنے کے لئے کھڑے کیا گیا ہے۔پس یہ جو نسلی تفریقیں ہیں یہ امریکہ میں شمال میں بھی ملتی ہیں اور جنوب میں بھی ملتی ہیں۔وہاں کے ، ریڈ انڈینز کا جہاں تک تعلق ہے وہ تو عملا صفحہ ہستی سے مٹائے جاچکے ہیں لیکن جنوبی امریکہ میں ریڈ انڈینز بڑی بھاری تعداد میں موجود ہیں بلکہ Latin یعنی لاطینی قوموں کے مقابلے پر بہت سے ممالک میں بھاری اکثریت میں موجود ہیں۔اس کے باوجود ان کو اس طرح دبایا جا رہا ہے، اس طرح ان کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں کہ اس کے نتیجے میں دن بدن ان کے اندر تشدد کا رجحان بڑھ رہا ہے۔اپنا انتقام لینے کے لئے ان کے اندر ایسی تحریکات چل رہی ہیں جس کے نتیجے میں آج نہیں تو کل وہاں کئی قسم کے دھما کے ہوں گے اور جو دھما کہ خیز رجحانات ہیں جن کے نتیجے میں جگہ جگہ بم چلائے جاتے ہیں معصوم شہریوں کی زندگی لی جاتی ہے۔امن عامہ کو برباد کیا جاتا ہے۔اس کو آپ باہر بیٹھے جتنا مرضی Condemn کریں، نفرت کی نگاہ سے دیکھیں ،اس کے خلاف تقریریں کریں جب تک ان وجوہات کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جو یہ باتیں پیدا کرتی ہیں اس وقت تک اس قسم کی Large Scale، وسیع پیمانے پر Condemnation سے اور ان پر تنقید کرنے سے تو یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔پس نسلی تفریقوں کے نتیجے میں جو خطرات ہیں وہ بھی ساری دنیا میں جگہ جگہ پھیلے پڑے