حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ — Page 2
حضرت خدیجہ الکبری 2 جن میں سے ایک رسم یہ تھی کہ نظر بد سے بچانے کے لئے لڑکوں کے نام لڑکیوں والے رکھ دیا کرتے تھے اس لئے ابو ہالہ نے اپنے بیٹوں کے نام لڑکیوں والے رکھ دیئے۔ابھی تھوڑا عرصہ ہی گذرا تھا کہ ابو ہالہ وفات پاگئے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا اپنے دونوں بچوں کے ساتھ غمگین اور اکیلی رہ گئیں(2) آخر کچھ وقت گذرنے کے بعد آپ کے ابا اور چچا نے آپ کی شادی ایک شریف نوجوان عتیق بن عائذ سے کر دی۔عتیق اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کے ہاں ایک بیٹی ہند پیدا ہوئی۔الہی منشاء کے تحت کچھ سالوں بعد ہی متقیق کا بھی انتقال ہو گیا (3) انہی دنوں عرب میں جنگ چھڑ گئی اس جنگ کو ”حرب فجار" کہا جاتا ہے۔ابھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا اپنے خاوند کی جدائی کے غم سے سنبھل بھی نہ پائی تھیں کہ آپ کے بہت پیار کرے والے والد خویلد اس جنگ میں مارے گئے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا ایک بار پھر غمگین رہو گئیں (4) اس رنج اور غم کی حالت میں انہیں تسلی دینے والا کوئی نہ تھا اس لئے آپ اپنی توجہ بٹانے کے لئے اپنے والد کی تجارت میں حصہ لینے لگیں اور مختلف تجارتی قافلوں کو اپنا مال دے کر دوسرے ملکوں میں بھیجنا شروع کر دیا۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا بہت ذہین اور عقلمند تھیں اس لئے انہیں تجارت میں خوب نفع ہونے لگا۔جلد ہی آپ مکہ کی امیر