حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ — Page 15
حضرت خدیجتہ الکبری 15 اور ج حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا نے بہت صبر اور حوصلہ کا مظاہرہ کیا، بلکہ حضور علی گھر تشریف لایا کرتے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا آپ مے کا بہت حوصلہ بڑھاتیں اور قریش کے دیئے گئے مظالم اور تکالیف کو کم کر کے الله دکھاتیں۔جس سے آنحضرت عملے کے دل کو سکون ملتا۔(21) جب قریش اور مکہ کے دیگر کفار کے مظالم دن بدن بڑھنے لگے مسلمانوں کی زندگی مشکل سے مشکل ہوتی گئی تو آخر ایک دن آنحضرت مال نے مسلمانوں کو ملک حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی صلى الله اجازت دے دی۔پہلے قافلہ میں آنحضرت معیہ اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنها کی بیٹی حضرت رقیہ رضی اللہ عنھا ، اُن کے خاوند حضرت عثمان اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کے بھتیجے حضرت زبیر بن العوام بھی شامل تھے (22)۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا اپنی بیٹی ، داماد اور بھتیجے کی جدائی سے اُداس بھی تھیں مگر اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی بھی۔آپ بہت بہادر خاتون تھیں اور ہمیشہ اپنے گھر والوں اور دوسرے مسلمانوں کو تسلی دلاتیں کہ آخر کار انشاء اللہ اسلام نے ہی غالب آتا ہے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کو ہر وقت یہ تشویش رہتی کہ کہیں کفار