خواب سراب — Page 54
میں دریا سے لگ کر رونا چاہتا ہوں اشکوں سے دریا انگارا ہو گیا تو دنیا داری کی سڑکوں پر گم لوگو چلتے چلتے سُرخ اشارہ ہو گیا تو ممکن ہے میں اس حیرت سے مر جاؤں میرا تیرے بعد گزارہ ہو گیا تو دنیا میں نقصان مبارک ہوتے ہیں روز محشر سوچ خسارہ ہو گیا تو 54 54