خواب سراب — Page 90
وہ اتنا پیارا ہے اگر وہ سامنے آئے، وہ اتنا پیارا ہے تو دل میں دیپ جلائے وہ اتنا پیارا ہے ،غزل، کہانی، گرامر، اُسے سلامی دیں اگر وہ اردو پڑھائے، وہ اتنا پیارا ہے وہ لب کشا ہو تو غالب کرے قدم بوسی گا میر بھی ”ہائے وہ اتنا پیارا ہے فراز و فیض اُسے داد دیں مزاروں سے وہ جب بھی شعر سنائے، وہ اتنا پیارا ہے اُسی کے واسطے میں بن سنور کے سوتا ہوں کہ کاش خواب میں آئے، وہ اتنا پیارا ہے 90