خواب سراب — Page 91
گلاب اُسکے بدن سے ادھار لے خُوشبو صبا گلے سے لگائے وہ اتنا پیارا ہے فلسف وہ جو بولے تو فرط حیرت سے ارسطو سر کو کھجائے، وہ اتنا پیارا ہے میں چاہتا ہوں کسی روز وہ خفا ہوکر مجھے بھی چار ”سنائے“ وہ اتنا پیارا ہے اسی کی بات کو میں آخری سند سمجھوں اُسی کی ” رائے ہے رائے، وہ اتنا پیارا ہے میں بھول جاؤں گا سارے بہشت کے منظر وہ پاس بٹھائے، وہ اتنا پیارا ہے اگر میں چاہتا ہوں کسی روز برف باری ہو اسے پلاؤں میں چائے وہ اتنا پیارا ہے 91