خواب سراب — Page 51
کچھ دل کو ہیں آزار، ذرا اور طرح کے کچھ دل کو ہیں آزار، ذرا اور طرح کے کچھ وہ بھی ہیں غمخوار، ذرا اور طرح کے کچھ حُسن مسیحا بھی زمانے سے الگ ہے کچھ ہم بھی ہیں بیمار، ذرا اور طرح کے ہم لوگ محبت میں سیاست نہیں کرتے ہم لوگ ہیں دو چار، ذرا اور طرح کے یوں خواب نہ بیچو کہ یہاں شہر جفا میں بیٹھے ہیں خریدار، ذرا اور طرح کے 51