خواب سراب — Page 96
کبھی یوں بھی ہو سر بزم وہ کہے کہ غزل سنا مجھے میں غزل غزل میں اُسے کہوں میرا کچھ نہیں ہے تیرے سوا کوئی دم درود وہ کر کے جو مرے قلب و جاں کو نکھار دے وہ دعا بھی دے مجھے پیار سے مرے دو جہاں جو سنوار دے 96
by Other Authors
کبھی یوں بھی ہو سر بزم وہ کہے کہ غزل سنا مجھے میں غزل غزل میں اُسے کہوں میرا کچھ نہیں ہے تیرے سوا کوئی دم درود وہ کر کے جو مرے قلب و جاں کو نکھار دے وہ دعا بھی دے مجھے پیار سے مرے دو جہاں جو سنوار دے 96