خواب سراب — Page 95
وہ شگفته گل کہ جسے چھوٹے وہی شاخ سبز گلاب ہو جسے سوچنے کی جزا ملے دیکھنا بھی ثواب ہو سے ہو گر شغف اُسے شاعری سے میرا لہجہ مثل فراز ہو اُسے عابدوں سے ہو پیار تو میری ہر قدم نماز ہو کبھی یوں بھی یوں بھی ہو وہ مجھے کہے تری سب دعائیں قبول ہیں ترے رت جگے ہیں سنے گئے ترے خار آج پھول ہیں 95 95