خواب سراب

by Other Authors

Page 94 of 129

خواب سراب — Page 94

کسے ہجرتوں کا ملال ہے کسے ہجرتوں کا ملال ہے کے فرقتوں کا خیال ہے جو گزر گئی تری یاد میں شام وصال ہے وہی شام میرا خواب تھا کسی روز تو مری منتظر یوں بہار ہو جو اُٹھے نگاہ جھکی ہوئی میرے روبرو رُخ یار ہو وہی یار کہ وہ جدھر چلے وہاں روشنی کا کا نزول ہو جو لکھے وہ حرف مجیب ہو جو کرے دُعا وہ قبول ہو 94