خواب سراب — Page 92
وہ مسکرائے تو آداب" نظم کہتی ہے غزل بھی پیر دبائے وہ اتنا پیارا ہے وہ سنگ راہ بھی گوہر مثال ہوتا ہے جسے وہ ہاتھ لگائے وہ اتنا پیارا ہے وہ سامنے ہو تو پھر جی حضور، وہ، میں، نا سمجھ میں کچھ بھی نہ آئے وہ اتنا پیارا ہے 92
by Other Authors
وہ مسکرائے تو آداب" نظم کہتی ہے غزل بھی پیر دبائے وہ اتنا پیارا ہے وہ سنگ راہ بھی گوہر مثال ہوتا ہے جسے وہ ہاتھ لگائے وہ اتنا پیارا ہے وہ سامنے ہو تو پھر جی حضور، وہ، میں، نا سمجھ میں کچھ بھی نہ آئے وہ اتنا پیارا ہے 92