خواب سراب — Page 87
تو گل ملا کے مجھے بات یہ سمجھ آئی جو دل گلاب ہوں وہ دِل دُکھائے جاتے ہیں وہ نکلتا شخص صورت خورشید جب ہے تو رنگ و نور میں ہم بھی نہائے جاتے ہیں اُسے بھی پیار ہے اُن سے جو دل شکستہ ہوں سو اُس کی بزم میں ہم بھی بلائے جاتے ہیں میرا یقین ہے یہ خامشی یہ گہرا سکوت یہ لوگ خود نہیں آتے یہ لائے جاتے ہیں 87