خواب سراب — Page 88
آنکھ ہے اشکبار ویسے ہی آنکھ دل ہے ہے اشکبار ویسے ہی جانتا ہوں کچھ بے قرار ویسے ہی وہ آنے والا نہیں پھر بھی ہے انتظار ویسے ہی کوئی الزام ہو ہمیں دے ہم رو ہیں بے شمار ویسے ہی ہم بھی دشمن ضرور رکھتے ہیں ایک رو تین چار ویسے ہی 88
by Other Authors
آنکھ ہے اشکبار ویسے ہی آنکھ دل ہے ہے اشکبار ویسے ہی جانتا ہوں کچھ بے قرار ویسے ہی وہ آنے والا نہیں پھر بھی ہے انتظار ویسے ہی کوئی الزام ہو ہمیں دے ہم رو ہیں بے شمار ویسے ہی ہم بھی دشمن ضرور رکھتے ہیں ایک رو تین چار ویسے ہی 88