خواب سراب

by Other Authors

Page 84 of 129

خواب سراب — Page 84

دُعا کی لو سے دِیے میں جلانے والا ہوں دُعا کی کو سے دیے میں جلانے والا ہوں میں کوئے یار میں جاں بھی لٹانے والا ہوں یہ پھول اُس نے مجھے بے سبب نہیں میں اس کی راہ سے کانٹے اُٹھانے والا ہوں مری نگاہ میں قطرہ بھی اک سمندر ہے اے میرے دوست میں صحرا سے آنے والا ہوں میں تیرے عشق میں دنیا تو چھوڑ دوں لیکن میں اپنے گھر میں اکیلا کمانے والا ہوں مرے قبیلے میں عہد و وفا ہی سب کچھ ہے سو جان دے کے میں وعدہ نبھانے والا ہوں 84