خواب سراب — Page 85
پھر اس سے کیا کہ مجھے کیا دیا ہے دنیا نے مرا جو فرض ہے وہ میں نبھانے والا ہوں نہ پوچھ مجھے۔زمانے دُعا کی اُجرت کا تری طرح میں کوئی دل دُکھانے والا ہوں میں تیرے ہاتھ کی تحریر کیا کروں کہ تُو مکر گیا تو میں کس کو دکھانے والا ہوں کچھ اس لئے بھی زمانے تری مری نہ بنی دل کا چین، میں آنسو چرانے والا ہوں (2009) 85