خواب سراب — Page 78
سند رروپ اور چاندی رنگت شند ر روپ اور چاندی رنگت لے بیٹھے گی لگتا ہے اس بار محبت لے بیٹھے گی اُس کے حسن کی لو سے دیپک جلتے ہیں اُس کی مجھ پر خاص عنایت لے بیٹھے گی دنیا تیسری عالمی جنگ سے خوفزدہ ہے ہم جیسوں کو یار کی فرقت لے بیٹھے گی اتنے وار سہوں گا اپنے دشمن کے میں اُس کو میرے ضبط پہ حیرت لے بیٹھے گی 78