خواب سراب

by Other Authors

Page 77 of 129

خواب سراب — Page 77

اک زخم زخم قوم سے درویش نے کہا تم نے کسی کی بات کو مانا تو ہے نہیں جرم وفا پہ لائے ہیں مقتل میں وہ ہمیں اب ان کے پاس اور بہانہ تو پاس اور بہانہ تو ہے نہیں ملتے ہیں جس خلوص سے ہم ہر کسی کے ساتھ یہ اس طرح کا زمانہ تو ہے نہیں ویسے کچھ اس لئے بھی آج تک روٹھے نہیں ہیں ہم آکے ہمیں کسی نے منانا تو ہے نہیں اپنا سنا کے حال اسے کچھ نہ پوچھنا اس کم سخن نے کچھ بھی بتانا تو ہے نہیں 77