خواب سراب — Page 76
مانا کہ وہ بھی آج تک مانا تو ہے نہیں مانا کہ وہ بھی آج تک مانا تو ہے نہیں ہم نے بھی اس کے شہر سے جانا تو ہے نہیں رکھی ہے کوئے یار کی مٹی سنبھال کے اس سے بڑا زمیں خزانہ تو ہے نہیں کچھ لوگ تیرے شہر کے خنجر بدست ہیں کچھ ہم نے باز عشق سے آنا تو ہے نہیں کہتے ہیں لوگ ان سے کہو جاکے حال دل اب ہم نے اپنی جان سے جانا تو ہے نہیں خانہ بدوش لوگ ہم دنیا کا کیا کریں دنیا سے لے کے ساتھ کچھ جانا تو ہے نہیں 76