خواب سراب

by Other Authors

Page 69 of 129

خواب سراب — Page 69

جو اپنے نام سے انسانیت کو معتبر کر دیں کسی کی شب گزیدہ زندگی مثل سحر کر دیں محبت سے نگاہ ڈالیں تو ذروں کو گہر کر دیں ملائیں ہاتھ وہ ایسے کہ خوشبو ہم سفر کر دیں جو پتھر کھائیں، دیکھیں، مسکرائیں، درگزر کر دیں ابھی وہ لوگ باقی ہیں جو شہر بے وفا میں بھی کیا وعدہ نبھاتے ہیں جو خود ناکام ہو کر بھی کسی کے کام آتے ہیں جو بچھڑی گونج کو پھر ڈار سے واپس ملاتے ہیں جو زخمی فاختہ کو گھونسلے تک چھوڑ آتے ہیں اُسے تنہائیوں میں موت کے دُکھ سے بچاتے ہیں ابھی وہ لوگ باقی ہیں 69 69