خواب سراب

by Other Authors

Page 67 of 129

خواب سراب — Page 67

گلاب رنگت، شباب عارض، شراب آنکھیں، بڑی عطا ہیں وہ ایسا جو نیکیوں میں قدم بڑھائے وہ خوبصورت یہ کیا غضب ہے کہ سال بھر میں وہ ایک دن ہی منا رہے ہیں ہر ایک دن کو محبتوں کا جو دن منائے وہ خوبصورت میں مانتا ہوں میں جانتا ہوں میں کہہ رہا ہوں میں لکھ رہا ہوں کسی کی بیٹی کا عمر بھر جو نہ دل دکھائے وہ خوبصورت وہ جس کے آنے سے زندگی میں بہار آئے گلاب ہے وہ گلاب لوگوں کو جو بھی اپنی غزل سنائے وہ خوبصورت جو اپنے محسن کو یاد رکھے وہ با وفا ہے مگر مبارک جو کر کے نیکی خدا کے بندوں سے بھول جائے وہ خوبصورت 40 67