خواب سراب — Page 66
وہ خوبصورت اُداس لوگوں کو جو خوشی کی خبر سنائے وہ خوبصورت جو خود دُکھی ہو مگر کسی کا نہ دل دُکھائے وہ خوبصورت یہ پیٹر اک دن کئی پرندوں مسافروں کو امان دیں گے یہ سوچ کر جو اجاڑ رہ میں شجر لگائے وہ خوبصورت محبتوں میں، عداوتوں میں، مقابلوں میں، عدالتوں میں خدا کی خاطر جو دوسروں سے شکست کھائے وہ خوبصورت میں روزِ محشر نظر جھکائے یہ منہ چھپائے لرز رہا تھا صدا یہ آئی کہ اپنی ہستی جو یوں مٹائے وہ خوبصورت 66 60