خواب سراب — Page 65
ہم نہیں وہ لوگ جو پتھر اٹھا کر ماردیں ہم نہیں وہ لوگ جو پتھر اُٹھا کر مار دیں ہیں وہ، جو رات کو سورج دکھا کر مار دیں دشمن جاں تیری خاطر زہر کیوں لائیں گے ہم تیرے جیسے چار ہم، غزلیں سنا کر مار دیں آسماں سے حکم آئے تو ابابیلوں کے جھنڈ ہاتھیوں کی فوج کو کنکر گرا کر مار دیں آپ یوں ہی قتل کا الزام اپنے سر نہ لیں آپ بس دیکھیں ہمیں اور مسکرا کر مار دیں آئینے یہ بانٹتا ہے یہ بھی دہشت گرد آؤ اس پر کفر کا فتویٰ لگا کر مار دیں دشمنی میں بھی ادب آداب کے قائل ہیں ہم نہیں کوفہ کے وہ، جو گھر بلا کر مار دیں لوگ ایسے بھی مبارک آ گئے ہیں شہر میں دھوپ سے چھاؤں میں لائیں اور لاکر مار دیں ہے 65