خواب سراب — Page 62
اب اس سے بڑھ کے محبت کی کیا گواہی دوں کہ تجھ سے عشق کیا وہ بھی استخارے بغیر تو کیا یہ کم ہے کرامت، کہ جان لیتا ہوں رضائے یار کو میں یار کے اشارے بغیر چلو کچھ ایسا کریں دونوں جیت جائیں ہم یہ جنگ ختم ہو وہ بھی کسی کے ہارے بغیر قدم قدم پہ تیری بس تیری ضرورت ہے میں مُشتِ خاک ہوں مولا تیرے سہارے بغیر کمال یہ ہے مبارک کو بھی ملے اعزاز کسی بھی اور کی دستار کو اُتارے بغیر 29 62