خواب سراب — Page 63
سخنوروں کے شہر میں سخنوروں کے شہر میں، وہ شاہ سخن کمال است گلاب تو ہزار ہیں، وہ گل بدن کمال است مرے لئے وہی تو ہے ،متاعِ جاں جمالِ زیست سنو اگر نہیں ہے وہ، مرے لئے جہان نیست سُنو گے اس کی گفتگو، کہو گے بات ختم شد ملے جو آفتاب سے، کہو گے رات ختم شد یونہی عطا نہیں ہوا، اسے مقام دلبری دکھاؤ تو سہی مجھے، کرے جو اُس کی ہمسری اُسی یہ جاں فریفتہ، یہ دل بصد نیاز ہے دُعا دُعا سا شخص وہ، جو سرتا پا نماز ہے 63