خواب سراب — Page 48
غزل میرے لئے جو آج سے تو غیر ہے تو خیر ہے تیری خوشی اگر میرے بغیر ہے تو خیر ہے میں تیرے بعد دُکھ کی کال کوٹھڑی میں قید ہوں تو چاہتا ہے میں کہوں کہ خیر ہے تو خیر ہے میں گھر چکا ہوں دشمنوں کی فوج میں تو کیا ہوا مجھے خبر ملے کہ تو بخیر ہے تو خیر ہے میں تجھ سے قتل ہو کے اس کو لکھ رہا ہوں خود کشی تجھے زمانے پھر بھی مجھ سے بیر ہے تو خیر ہے یہ اور بات ہے میں اس سے دُور جا کے رو پڑا اُسے مگر کہا تھا یونہی خیر ہے تو خیر ہے جو تو نہیں تو یار پھر بہشت کی کشش نہیں جو تیرے ساتھ دشت کی بھی سیر ہے تو خیر ہے یہ کم ہے کیا کہ لڑ رہا ہوں جنگ تیرے نام پر لہو لہو بدن جو سر تا پیر ہے تو خیر ہے 48