خواب سراب

by Other Authors

Page 47 of 129

خواب سراب — Page 47

حُسن دُنیا یہ تو کہہ دوں میں غزل لمحوں میں تیری آنکھوں پہ لکھوں میں تو زمانے لگ جائیں چاند چہرے کو نقابوں میں چھپا کر جاتا یہ نہ ہو راہ میں دو چار ٹھکانے لگ جائیں آج اشعار مرے، جن سے شکایت ہے انہیں کیا خبر کل کو نصابوں میں پڑھانے لگ جائیں ہم مبارک ہیں طبیعت کے بہت سادہ مزاج دل جو ٹوٹے بھی تو بس شعر سنانے لگ جائیں 47