خواب سراب — Page 37
کوئی ایسا اسم اعظم پڑھ جو اشک بہا دے سجدوں میں اور جیسے تیرا دعوی ہے محبوب ہو میرے قدموں میں پر عامل رُک، اک بات کہوں یہ قدموں والی بات ہے کیا؟ آنکھوں پر محبوب تو ہے سر مجھ پتھر کی اوقات ہے کیا اور عامل سن یہ کام بدل یہ کام بہت نقصان کا ہے سب دھاگے اس کے ہاتھ میں ہیں جو مالک گل جہان کا ہے 37 (1990)