خواب سراب — Page 36
کوئی قابو کر بے قابو جن کوئی سانپ نکال پٹاری سے کوئی دھاگہ کھینچ پراندے کا کوئی منکا اکشا دھاری سے کوئی ایسا بول سکھا مجھ کو وہ سمجھے خوش گفتار ہوں میں کوئی ایسا عمل کرا مجھ سے وہ جانے، جان نثار ہوں میں کوئی ڈھونڈھ کے وہ کستوری لا اسے لگے میں چاند کے جیسا ہوں جو مرضی میرے یار کی ہے اسے لگے میں بالکل ویسا ہوں 36