خواب سراب — Page 30
کمال یہ ہے خزاں کی رُت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے ہوا کی زد دیا جلانا، جلا کے رکھنا، کمال یہ ہے ذرا سی لغزش پہ توڑ دیتے ہیں سب تعلق زمانے والے ایسے ویسوں سے بھی تعلق بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے کسی کو دینا یہ مشورہ کہ وہ دُکھ بچھڑنے کا بھول جائے اور ایسے لمحے میں اپنے آنسو چھپا کے رکھنا، کمال یہ ہے خیال اپنا مزاج اپنا، پسند اپنی کمال کیا ہے؟ جو یار چاہے وہ وہ حال اپنا بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے 30 30