خواب سراب — Page 31
کسی کی رہ سے خدا کی رہ سے خدا کی خاطر، اٹھا کے کانٹے ، ہٹا کے پتھر پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا، کمال یہ ہے وہ جس کو دیکھے تو دُکھ کا لشکر بھی لڑکھڑائے، شکست کھائے لبوں پہ اپنے وہ مسکراہٹ سجا کے رکھنا، کمال یہ ہے ہزار طاقت ہو، سو دلیلیں ہوں پھر بھی لہجے میں عاجزی سے ب کی لذت، دُعا کی خوشبو بسا کے رکھنا، کمال یہ ہے ادب 31