خواب سراب — Page 29
پیار کرنا جرم ہے تو سُن زمانے غور سے وہ ہمیں تھوڑا نہیں بے انتہا اچھا لگا اُسکی خاطر زخم جو آئے وہ سارے پھول تھے اُسکے کوچے تک ہمیں ہر کربلا اچھا لگا پیار کیسے ہو گیا واقعہ ہے ہم دکھی تھے اور ہمیں دکھ آشنا اچھا لگا مختصر عشق بھی کیا چیز ہے اب کیا بتائیں دوستو جو بھی اُس تک لے گیا، وہ راستہ اچھا لگا کیا عجب، روز قیامت وہ مبارک یہ کہیں میرے اس شاعر نے اُس دن جو کہا اچھا لگا 29 29