خواب سراب

by Other Authors

Page 22 of 129

خواب سراب — Page 22

بخش دے مجھ کو، دیکھ نہ میرا نامہ اعمال میرے ہاتھ نہ پہلے کچھ بھی، ایسا ہوں کنگال دُکھ کے ببر شیر ہیں پیچھے، بن جا میری ڈھال پھر نہ دنیا مڑ کے دیکھوں، ایک نظر وہ ڈال تیرے ہاتھ میں بخشش کے ہیں، اربوں بحرِ ہند رحمت کا اک چھڑک وہ قطرہ، جی اُٹھے یہ چند 22 22