خواب سراب

by Other Authors

Page 23 of 129

خواب سراب — Page 23

ہجر کی کالی رات میں اُٹھ کر دل کے دیپ جلا ہجر کی کالی رات میں اُٹھ کر دل کے دیپ جلا آنکھ کے مر جانے سے پہلے آنسو چار بہا نفس کے کالے جادوگر سے جلدی جان چھڑا اُس کی یاد میں ایسے رو کہ ہستی جائے ہل وقت نکال کسی دن تھوڑا اپنے آپ سے مل تنہائی میں بیٹھ کسی دن خود سے مانگ حساب کتنے تونے خار بچنے ہیں کتنے پھول گلاب دو آنکھوں میں پال لئے ہیں تو نے دو سو خواب تو نے خود کو جان لیا ہے شاید سب سے تیز وقت کی دیمک چاٹ گئی ہے رستم اور چنگیز 23