خواب سراب

by Other Authors

Page 13 of 129

خواب سراب — Page 13

مبارک صدیقی کی شاعری کو پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت سادگی سے ایک مضمون بیان کر کے آگے نکل جاتے ہیں اور جب پڑھنے یا سنے والا مضمون میں غوطہ لگا کر باہر نکلتا ہے، وہ ایک نئی منزل پر مسکراتے چہرے کے ساتھ ان کے منتظر ہوتے ہیں۔وہ خود لکھتے ہیں: خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا کمال یہ ہے ہوا کی زد پہ دیا جلانا، جلا کے رکھنا کمال یہ ہے مسکراتے چہرے اور گلاب لہجہ کے حامل اس شاعر کو اللہ تعالیٰ نے میدانِ شعر میں کمال بنایا ہے اور مبارک صدیقی نے اس کمال کو جس محبت اور خوش اسلوبی سے استعمال کیا ہے، اس کی جھلک آپ کو اس کتاب کے ہر صفحے پر نظر آئے گی۔( ڈاکٹر وسیم احمد طاہر، جرمنی) 13