خواب سراب

by Other Authors

Page 14 of 129

خواب سراب — Page 14

علم را برتن زنی مارے بود علم را بر دل زنی یارے بود مولانا روم کہتے ہیں کہ علم کو اگر بدن پر لگایا جائے یعنی اس سے دنیا طلبی کا کام لیا جائے تو یہ ایک سانپ بن جاتا ہے لیکن اگر علم کو دل سے جوڑا جائے یعنی اس سے دلوں کی اصلاح کا کام لیا جائے تو یہ یار بن جاتا ہے۔مبارک صدیقی نے علم کو نہ صرف دل سے جوڑا ہے بلکہ اس علم سے ٹوٹے ہوئے زخمی دلوں پرا کسیر دوا کا کام بھی لیا ہے۔اس کی شاعری میں جہاں نئی زمینوں پر نئی فصلیں لہلہاتی نظر آتی ہیں وہاں پرانی اور بنجر زمینیں بھی نت نئے پھولوں سے مرصع و مزین دکھائی دیتی ہیں۔وہ ایک ایسا ساحر ہے جو رنج والم کے گہرے مناظر کو چٹکی بجاتے ہی سفید کبوتروں اور اُجاڑ ، ویران آنکھوں کو پلک جھپکنے میں ہزار ہا رنگین تتلیوں سے بھر دیتا ہے۔پاس کی تاریک راہوں میں اس کی شاعری جگہ جگہ جگنو چھوڑتی نظر آتی ہے۔دلوں کے بے رنگ آسمان پر قوسِ قزح کے تھان بچھا دینے والا یہ شاعر صدیوں کے سمندرلمحوں میں پار کروانے کا ہنر بخوبی جانتا ہے۔مبارک صدیقی بلا شبہ صندل کا وہ درخت ہے جو کلہاڑے کا منہ بھی خوشبو سے بھر دیتا ہے۔شاعری کے اس سفر میں میری سرسبز و شاداب دعا ئیں ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گی۔14 (طاہر عدیم صاحب)