خواب سراب — Page 116
تو نہیں تو زندگی میں تو نہیں تو زندگی میں اک کمی رہ جائے گی اب جو دریا بھی ملا تو تشنگی رہ جائے گی وقت بھر دے گا بظاہر زخم تیرے ہجر کے عمر بھر آنکھوں میں لیکن اک نمی رہ جائے گی ہم لہو کی آنچ پر جلتے ہوئے ایسے چراغ بجھ گئے تب بھی ہماری روشنی رہ جائے گی ہم اتر جائیں گے نیلے آسماں کی گود میں زندگی اک دن ہمیں تو ڈھونڈتی رہ جائے گی کوئے جاناں سے رہے گی اپنی نسبت عمر بھر ہم نہیں ہوں گے ہماری شاعری رہ جائے گی 116