خواب سراب

by Other Authors

Page 93 of 129

خواب سراب — Page 93

اُسے کچھ نہ ہو اے میرے خدا مرے چارہ گر، اُسے کچھ نہ ہو مجھے جاں سے ہے وہ عزیز تر ، اُسے کچھ نہ ہو تیرے پاؤں پڑ کے دعا کروں سر دشت میں جرے سر پہ ہے وہی اک شجر، اُسے کچھ نہ ہو تیرے ایک گن سے ہیں موسموں کی یہ گردشیں سو یہ حکم دے انہیں خاص کر، اُسے کچھ نہ ہو وہ جو ایک پل تھا قبولیت کا مجھے ملا تو کہا تھا خالق بحر و بر، اُسے کچھ نہ ہو اے غنیم جاں چلو آج تجھ سے یہ طے ہوا مجھے زخم دے بھلے عمر بھر، اُسے کچھ نہ ہو یونہی بے سبب میں اُداس ہوں کئی روز سے سو غزل کہی ہے یہ چشم تر، اُسے کچھ نہ ہو ○ 93