خواب سراب — Page 83
جہاں میں نے کہا تھا پھول بانٹو وہاں مجھ پر ہی پرچہ ہو چکا ہے مجھے جو بھی پسند آتی ہے لڑکی کہتی وہ ہے کہ رشتہ ہو چکا ہے کسی کو کیا بتاؤں میں مبارک کہ اس کے بعد کیا کیا ہو چکا ہے (1990) 83
by Other Authors
جہاں میں نے کہا تھا پھول بانٹو وہاں مجھ پر ہی پرچہ ہو چکا ہے مجھے جو بھی پسند آتی ہے لڑکی کہتی وہ ہے کہ رشتہ ہو چکا ہے کسی کو کیا بتاؤں میں مبارک کہ اس کے بعد کیا کیا ہو چکا ہے (1990) 83