خواب سراب

by Other Authors

Page 44 of 129

خواب سراب — Page 44

اُداس کیوں ہو تمہیں زمانے نے سکھ کے بدلے میں دُکھ دیا ہے ، اُداس کیوں ہو یہ مسئلہ تو بہت سے لوگوں کا مسئلہ ہے، اُداس کیوں ہو تمہیں بھی کانٹوں سے پیار کرنا نہ راس آیا تو کیا بنے گا یہ راستہ تو گلاب لوگوں کا راستہ ہے، اُداس کیوں ہو یہ کیا کہ ہر شام ریل گاڑی کو دیکھ کر سوگوار ہونا وہی ہے منزل بچھڑنے والا جدھر گیا ہے، اُداس کیوں ہو یہ میر، غالب، فراز، محسن، منیر، مضطر، فرید، وارث ادب فروشوں نے ان نگینوں کو دُکھ دیا ہے، اُداس کیوں ہو 44