خواب سراب — Page 33
کہو، شنو، میلو مگر بڑی ہی احتیاط سے مٹھاس بھی تو زہر ہے جو اعتدال مسترد وہ شخص آفتاب ہے میں اک چراغ گج ادا سو اُس حسیں کی بزم میں میری مجال مسترد تو کیا کوئی گلاب ہے؟ حسین میرے یار سے وہ لاجواب شخص ہے، سو یہ سوال مُسترد بچھڑ کے ایک شخص سے، لہو لہو ہے دل مگر رضائے یار اس میں ہے تو پھر ملال مُسترد میں معترف تو ہوں ترا مگر اے چاند معذرت کہ ذکر حسنِ یار میں تری مثال مُسترد حساب عمر دیکھ لو کہ پھر پل صراط پر یہ نفس کے اگر مگر، فریب چال مسترد 33