خواب سراب — Page 123
دشمن جاں سوچ لے پھر سوچ لے ایک دن آنی ہیں میری واریاں چھو رہی ہے زلف اُنکی گال کو چل رہی ہیں میرے دل پر آریاں اتنی بھی سادہ میری صورت نہ صورت نہ تھی جتنی اُس ظالم نے چیکاں ماریاں آج بھی تو نے اگر نہ داد دی میں تری محفل سے اٹھ کے جاریاں 123