خواب سراب

by Other Authors

Page 111 of 129

خواب سراب — Page 111

خواب سرا نیا کی دل دُکھانے کی عادت نہیں گئی اپنی بھی مسکرانے کی عادت نہیں گئی ناراض ہو گئے ہیں کئی شب مزاج لوگ میری دئے جلانے کی عادت نہیں گئی اک میں کہ اس کے عشق میں دنیا کا نہ رہا اک وہ کہ آزمانے کی عادت نہیں گئی کچھ وہ غنیم جان بھی ہے مستقل مزاج کچھ میری جاں سے جانے کی عادت نہیں گئی آیا ہوں اپنے شہر کے لوگوں سے مل کے میں اُن کی وہ دل چرانے کی عادت نہیں گئی کانٹوں پہ چل کے بانٹتا رہتا تھا جو گلاب کہتے ہیں اُس دِوانے کی عادت نہیں گئی 111