خواب سراب — Page 112
وہ جسے میں نے دل و جان سے چاہا، آہا وہ جسے میں نے دل و جان سے چاہا، آبا اُس نے بھی ایک میرا شعر سراہا، آہا کوچه یار کے آزار بھی سکھ ہوتے ہیں اُس نے رکھا جو میرے زخم پہ پھاہا، آبا کون ساقی ہے سرِ بزم شرابوں جیسا میکده بول اُٹھا جھوم کے، آہا، آہا وہ مجھے پھول اگر دے تو کدھر جاؤں گا جسکا پتھر بھی پڑا تو میں کراہا، آہا کل وہ کہتا تھا مجھے شعر بُرے لگتے ہیں آج جوشن کے غزل کہتا ہے آہا، آہا 112