خواب سراب — Page 10
گلابوں اور چراغوں کا شاعر بسا اوقات ہم اپنی قلت منہمی کی وجہ سے شعر کوصرف تسکین کا ایک ذریعہ ہی خیال کر لیتے ہیں جبکہ در حقیقت شعر اور شعور کا باہم گہرا تعلق ہے۔ایک اچھا شعر ہمیں فہم و ادراک کی ایسی راہوں پر لے جاتا ہے جہاں تک پہنچنا بسا اوقات مشکل ہی نہیں ناممکن ہوا کرتا ہے۔شاعری محض الفاظ کو سلیقے اور طریقے سے برتنے کا نام ہی نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے روز مرہ رویوں ، معاملات اور واقعات کی عکاس ہوا کرتی ہے۔مصور کائنات کی بنائی ہوئی یہ دنیا بہت وسیع ہے اور اس میں پھیلے منظر اور رنگ بھی بے انتہا ہیں۔شاید ہی کسی عکاس کیلئے ممکن ہو کہ وہ ان تمام خوبصورت مناظر کی تصویر کشی کا حق ادا کر سکے۔پھر بھی کچھ اہل قلم ایسے ضرور ہوتے ہیں جنہیں قدرت کی طرف سے یہ سلیقہ عطا ہو جاتا ہے کہ وہ ممکنہ حد تک قاری کو اس انتہا تک لے جاتے ہیں جہاں تک اس کا شعور اُسے اجازت دیتا ہے۔وہ انسانی رویوں کی چادر کے سب تانے بانے کھول کر سمجھا بھی دیتے ہیں اور انہیں بہتر بنانے کا ہنر بھی بتا دیتے ہیں۔جیسا کہ ظلم کو مٹانے کیلئے صبر کی طاقت کا اظہار کرتے ہوئے مبارک صدیقی کہتے ہیں : ہم نہیں وہ لوگ جو پتھر اُٹھا کر مار دیں ہم ہیں وہ جو رات کو سورج دکھا کر مار دیں 10