کسر صلیب — Page 374
پس حضرت مسیح علیہ السلام کا صرف دو تین گھنٹے میں فوت ہو جانا ہرگزہ قرین قیاس نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک زبر دست دلیل اس بات کی ہے کہ وہ صلیب پر نہ ندہ رہے تھے۔زبردست اس دلیل کو حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے اس رنگ میں بھی بیان فرمایا ہے کہ اتنے قلیل عرصہ میں مسیح علیہ السلام کا فوت ہو جانا ہر حق کی نظر میں ایک مشتبہ امر ہے۔شاید اسی وجہ سے یہودی اس سوالی کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکتے کہ آخر کس وجہ سے مسیح اتنی معمولی سی اذیت سے اور اتنی جلدی فوت ہو گیا۔حضور ایک جگہ فرماتے ہیں " کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ یہودی اس بات کا جواب دینے سے قاصر رہے کہ کیونکر حضرت مسیح علیہ السلام کی جان بغیر ہڈیاں توڑنے کے صرف دو تین گھنٹے میں نکل گئی ہے لغرض حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کے رد میں یہ دلیل بہت ہی زیر دست ہے کہ اس زمانہ کی صلیب پر قلیل عرصہ لٹکنے کی وجہ سے حضرت مسیح علیہ السلام کی موت وارد نہیں ہو سکتی۔پس یه یقینی بات ہے کہ وہ صلیب پر سے زندہ اتارے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خلاصہ کے طور پر فرماتے ہیں :- " اگر چہ وہ بظاہر یہودیوں کے آنسو پونچھنے کے لئے صلیب پر چڑھایا گیا لیکن وہ قدیم رسم کے موافق نہ تین دن صلیب پر رکھا گیا جو کسی کے مارنے کے لئے ضروری تھا اور نہ ہڈیاں توڑی گئیں بلکہ یہ کہہ کہ بچا لیا گیا کہ اس کی تو جان نکل گئی “ اور ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا تا خُدا کا مقبول اور راستباز نبی جرائم پیشہ کی موت سے مرکز یعنی صلیب کے ذریعہ جان دے کہ اس لعنت کا حصہ نہ لیو سے جو روز اول سے ان شریروں کے لئے مقرر ہے جن کے تمام علاقے خدا سے ٹوٹ جاتے ہیں یہ ہے بار تهوین دلیل یہ حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب پر نہ مرنے کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام کی لاش کو ایک شخص نے طلب کیا تو حاکم وقت نے جو اچھی طرح جانتا تھا کہ کتنے عرصہ میں عام طور پر انسان کی جان صلیب پر نکلتی ہے اس بات پر تعجب کیا کہ کیا یہ شخص اتنی جلدی فوت ہو گیا ہے۔یہ تجب مسیح ہندوستان میں مداد - جلد ۱۵ : كتاب البرية من جلد ۱۳ : :