کسر صلیب — Page 373
۳۷۳ ہو جاتا ہے۔پس آندھی اور سخت تاریخی کے پیدا ہونے سے یہودیوں کے دلوں میں یہ کھٹن کا شروع ہوا کہ ایسانہ ہوکہ وہ لاشوں کو بہت کی رات میں صلیب پر رکھ کر بہت کے مجرم ہوں اور سحق سزا ٹھہریں اور دوسرے دن عید فسح بھی تھی جس میں خاص طور پر صلیب دینے کی ممانعت تھی پس جبکہ آسمان سے یہ اسباب پیدا ہو گئے اور نیز یہودیوں کے دلوں پر اپنی رعب بھی غالب آگیا تو ان کے دلوں میں یہ دھڑ کہ شروع ہو گیا کہ ایسا نہ ہو کہ اس تاریخی میں سبقت کی رات آجائے ہد اسیح اور چوروں کو جلد صلیب پر سے اتار لیا گیا ؟ اے حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب پر لکھنے اور لٹکے رہنے کے وقت کی تعین اور مقدار کی مزید وانت کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : - " آخر صلیب دینے کے لئے تیار ہوئے۔یہ جمعہ کا دن تھا اور عصر کا وقت اور اتفاقاً یہ یہودیوں کی عید فسح کا بھی دن تھا اسکی فرصت بہت کم تھی اور آگے سبت کا دن آنیوالا تھا جس کی ابتداء غروب آفتاب سے ہی بجھی جاتی تھی کیونکہ یہودی لوگ مسلمانوں کی طرح پہلی رات کو اگلے دل میں شامل کر لیتے تھے اور یہ ایک شرعی تاکید تھی کہ بیت میں کوئی لاشی صلیب پر ٹکی نہ رہے تب یہودیوں نے جلدی سے صحیح کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا تا شام سے پہلے ہی لاشیں اتاری جائیں مگر اتفاق سے اسی وقت ایک سخت اندھیری آگئی جسے سخت اندھیرا ہوگیا۔یہودیوں کو یہ فکر پڑ گئی کو اب اگر اندھیری میں ہی شام ہو گئی تو ہم اس جرم کے مرتکب ہو جائیں گے جس کا ابھی ذکر کیا گیا ہے۔سو انہوں نے اس فکر کی وجہ سے تینوں مصلوبوں کو صلیب پر سے اتار لیا اوریا درکھنا چاہیئے کہ یہ بالاتفاق مان لیا گیا ہے کردہ صلیب اس قسم کی نہیں تھی جیسا کہ آج کل کی پھانسی ہوتی ہے ادرس گلے میں رستہ ڈال کر ایک گھنٹہ مں کام تمام کیا جاتا ہے بلکہ اس قسم کا کوئی رس گلے میں نہیں ڈالا جاتا تھا صرف بعض اعضاء میں کیلیں ٹھو کہتے تھے اور پھر احتیاط کی غرض سے تین تین دن مصلوب بُھوکے پیاسے صلیب پر چڑھائے رہتے تھے اور بعد اسکی ہڈیاں توڑی جاتی تھیں اور پھر یقین کیا جاتا تھا کہ اب مصلوب مرگیا۔مگر خداتعالی کی قدرت سے مسیح کے ساتھ ایسا نہ ہوا۔عید فسح کی کم فرصتی اور عصر کا تھوڑا سا وقت اور آگے سبت کا خوف اور پھر آندھی کا آجانا ایسے اسباب یک دفعہ پیدا ہو گئے جسکی وجہ سے چند منٹ میں ہی مسیح کو صلیب پر سے اتار لیا گیا اور دونوں چور بھی اتارے گئے نے ا ترياق القلوب ملا جلد ١٥ : ه : امراله او بیام حصہ اول ۲۰۰ جلسه ۳ به ۲۹۶۵