کسر صلیب

by Other Authors

Page 368 of 443

کسر صلیب — Page 368

گیارہویں دلیل حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کے رد میں ایک دلیل یہ ہے کہ جتنا عرصہ حضرت مسیح علیہ السلام کو عملاً صلیب پر لٹکایا جانا ثابت ہوتا ہے۔اتنے عرصہ میں بالعموم انسان کی موت واقع نہیں ہوتی۔پس یہ تاریخی حقیقت اس بات کو زیادہ قرین قیاس بنا دیتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے۔یاد رہے کہ جس صلیب پر حضرت مسیح علیہ السلام کو لگایا گیا تھاوہ ہمارے موجودہ زمانہ کی صلیب کے بہت مختلف تھی۔قدیم صلیب پر لکنے والا انسان بھوک، پیاس ، دھوپ اور شدت تکلیف کی وجہ سے کئی دنوں میں جا کر مرتا تھا۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف محقق عیسائی پادریوں نے بھی کیا ہے۔چنانچہ ایک مشہور پادری لکھتے ہیں :- The peculiar atrocity of crucifixion was that one might live three or four days in this horrible state upon the instrument of torture۔The true cause of death was the unnatural position of the body which brought on a fright ful disturbance of the circulation, terrible pains of the head and heart, and, at length, rigidity of the limbs۔Those who had a strong constitution only died of hunger۔The idea which suggested this cruel punishment was۔۔۔۔۔۔۔to let him rot on the wood۔The delicate organization of Jesus preserved him from this agony۔" ✓ اس حوالہ کا مفہوم یہ ہے کہ صلیب کی یہ مخصوص سزا اس قسم کی تھی کہ بعض اوقات انسان صلیب پر تین یا چار روزہ تک بھی زندہ شکار ہتا تھا۔موت کا اصل سبب انسانی جسم کی وہ غیر طبعی اور عجیب طرز ہوتی تھی جس دوران خون میں گڑبڑ، سرا اور دل کی شدید در و پیدا ہوتی تھی اور آخر کا را اعضاء سخت ہو جایا کرتے تھے۔جن لوگوں کی جسمانی ساخت مضبوط ہوتی تھی وہ تو صرف بھوک کی وجہ سے مرتے تھے دراصل اس طرز پر صلیب دینے کا اصل مقصد یہ ہوتا تھا کہ مصلوب ملیب پر گل سڑ کر مر جائے۔یسوع مسیح کی The life of Jesus p۔367-368 --