کسر صلیب — Page 182
پیدا ہوتے جائیں وہ سب خدا ہی ہوں تاکہ وہ پاک رحم مخلوق کی شرکت سے منزہ ہے اور فقط خدائی ہی کے پیدا ہونے کی ایک کان ہو۔پس قیاس متذکرہ بالا کی دو سے لازم تھا کہ حضرت مسیح کے دوسرے بھائی اور بہن بھی کچھ نہ کچھ خدائی میں سے بخره پاتے اور ان پانچوں حضرات کی والدہ تو رب الارباب ہی کہلاتی کیونکہ یہ پانچوں حضرات روحانی اور جسمانی قوتوں میں اسی سے فیضیاب ہیں " اے ك ساتویں دیل حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کے رد میں ایک دلیل یہ ہے کہ ان کی الوہیت کا عقیدہ عیسائیوں کے اپنے مسلمات کے خلاف جاتا ہے۔عیسائی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت مسیح خدا تھے۔مکمل خدائی صفات سے متصف تھے اس کے ساتھ وہ یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ باپ اور روح القدس بھی مکمل خُدا تھے اور یہ سب مل کر ایک مکمل خدا بنتا ہے جس میں کسی قسم کی کوئی زیادتی یا فضیلت نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر تین وجودوں میں سے ہر ایک وجود کامل خدا ہے اور مکمل خدائی صفات کا مالک ہے تو لازمی طور پر ان کے ملنے سے ایک اکمل تر وجود بننا چاہیے۔لیکن ایسا خیال مسیحی عقائد کے مطابق باطل ہے۔اب اگر یہ مانا جائے کہ یہ تینوں خدا باہم مل کر ایک مکمل خدا بنتے ہیں تو پھر ان تینوں جو دوں میں سے ہر ایک کی الوہیت باطل ہو جاتی ہے۔کیونکہ خدا کا وجود ہر قسم کے نقص یا کمی سے پاک ہے۔پس ان تینوں کامل وجودوں سے باہم مل کر ایک کامل خدا بننے سے استدلال ہوتا ہے کہ مسیح اپنی ذات میں کامل خدا نہ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دلیل کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔حضرات عیسائی صاحبان کا یہ عقیدہ ہے کہ باپ بھی کامل اور بیٹا بھی کامل - روح القدس بھی کامل۔اب جب تینوں کامل ہوئے تو ان تینوں کے ملنے سے اکمل ہونا چاہیے کیونکہ مثلاً جب تین چیزیں ۲-۳ سیر فرض کی جائیں تو وہ سب مل کر 9 سیر ہوں گی۔یہ ایک سخت اعتراض ہے جس سے قطعی طور پر حضرت مسیح کی الوہیت کا بطلان ہوتا ہے " ۲ ه: براہین احمدیہ حاشیه ص ۱۳ روحانی خزائن جلد 1 : : جنگ مقدس ص۱۱۲ روحانی خزائن جلد ۶ به